آ باد ہے جو لُٹ کے بھی،وہ گھر ہے حسین کا
اونچاہے جو کٹ کے بھی،وہ سر ہے حسین کا
وہ تخت و تاج تھے پل دو پل کے اے یزید !
جو دو جہاں میں سرخ روح،وہ در ہے حسین کا
محازِ کربلا پےجو سجدہ کیا،وہ ہنر ہے حسین کا
قاتل سر پے آ کھڑا ہے،وہ صبر ہے حسین کا
یہ یزیدی اب ماتم جو کریں،وہ ڈر ہے حسین کا
کبھی باطل پے نہ جُھکا تھا ،وہ سر ہے حسین کا
غمِ حسین جو ہے تو بس مُحرم میں ہی کیوں؟؟
جو عمر بھر رہے ماذنؔ،وہی تو ہے غم حسین کا
